28 جولائی 2026 - 01:28
ابنائے ہرمز پر ایران کا تسلط ابد تک؛ دو سابق امریکی کمانڈروں کا اعتراف

امریکی فضائیہ کے دو ریٹائرڈ سینئر کمانڈر، جو فی الحال اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سنٹر (CSIS) کے ماہرین ہیں، ایران پر حملے میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دقیق آپریشنل تقسیمِ کار کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی طاقت آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے چھین نہیں سکتی، اور ایران جب تک چاہے گا، اس آبنائے پر اپنا کنٹرول لاگو رکھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی فضائیہ کے سابق چیف آف اسٹاف جنرل جیمز سلائف (James C. Slife) اور ان کے نائب جنرل کلنٹ ہینوٹ (Clint Hinote)، ـ جو اس وقت اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سنٹر (CSIS) میں سینئر ماہرین ہیں، ـ ایک ماہرانہ گفتگو میں ایران پر حملے میں امریکہ اور اسرائیل کی ہم آہنگی اور گہری تقسیمِ کار سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ کوئی بھی طاقت، اور کسی بھی فوجی آپریشن میں، آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے باہر نہیں کر سکتی، اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس جنگ سے پیدا ہونے والی فرسودگی اگلے تین سے پانچ سالوں میں امریکی فوجی اور دفاعی ڈھانچے پر اپنے سنگین اثرات کو آشکار کر دے گی۔

اس گفتگو کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

دو سابق امریکی جنرلز، جیمز سلائف اور کلنٹ ہینوٹ ـ جو اب CSIS تھنک ٹینک کے سینئر تجزیہ کار ہیں)، نے ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں اہم انکشافات کیے ہیں۔

ان کے مطابق، ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ابدی اور ناقابلِ تسخیر ہے، اور کوئی بھی طاقت، چاہے وہ امریکہ ہی کیوں نہ ہو، اسے ایران سے چھین نہیں سکتی۔

امریکی فضائیہ کے ان دو سابق جرنیلوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حملوں کی سطح پر بے مثال ہم آہنگی تھی، مگر یہ ہم آہنگی برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات سے کم تھی۔ تاہم،

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیکٹیکل کامیابیوں (مثلاً اہداف کی تباہی) کے باوجود، امریکہ کے پاس فتح کے لئے کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہے۔

ان کے بقول، وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے درمیان مواصلاتی خلا ہے، جس کی وجہ سے فوجی منصوبہ ساز مبہم سیاسی اہداف کو عملی مشنز میں تبدیل نہیں کر پاتے۔

جہاں تک امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی کا تعلق ہے، اسرائیل نے ایران، حزب اللہ اور حماس کو کمزور کرنے کے لئے "گھاس کٹائی" (Lawn mowing) کی پالیسی اپنائی، جس میں قیادت اور ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ امریکہ نے فضائی دفاع، میزائل اور ڈرون کی تیاری جیسے پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی۔ اگرچہ یہ دونوں حکمت عملیاں ایک دوسرے کو مکمل کرتی تھیں، لیکن ان میں کوئی تضاد نہیں تھا۔

ایرانی ڈرونز نے امریکی فضائیہ کی تاریخی "مامونیت (Impunity)" کو ختم کر دیا ہے۔ 1953 کے بعد پہلی بار امریکی فوجی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

جنرل سلائف کے مطابق، روایتی فضائی برتری (جیٹ فائٹرز کی اونچی اڑان) اب کافی نہیں رہی، کیونکہ

سستے اور خودکش ڈرونز جیسے "شاہد" نے دفاعی توازن بگاڑ دیا ہے۔

ایران کے سستے ڈرونز کو گرانے کے لئے پیٹریاٹ جیسے مہنگے میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں، جس سے مالی بوجھ بڑھتا ہے اور اسٹراٹیجک ذخائر ختم ہو جاتے ہیں۔

ان جرنیلوں کا کہنا ہے کہ آنے والے 3 تا 5 سالوں میں جنگ کا ایک اور سنگین اثر سامنے آئے گا: امریکی بحریہ اور فضائیہ کی جنگی استعداد میں شدید کمی آئے گی، کیونکہ ضرورت سے زیادہ آپریشنز، مرمت میں تاخیر اور تربیت میں کمی نے ان کی صلاحیتوں کو فرسودہ کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ناقابلِ تسخیر ہے

امریکی جرنیل وضاحت کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز (جو تنگ، اتھلی اور پہاڑی ساحلوں میں گھری ہوئی آبی گذرگاہ ہے) کا جغرافیائی محل وقوع ایران کے حق میں ہے۔ چاہے امریکہ 98 فیصد حملوں کو ناکام ہی نہ بنا دے، صرف 2 فیصد حملے بھی تجارتی جہاز رانی روکنے کے لیے کافی ہیں، کیونکہ انشورنس کمپنیاں حتیٰ کہ معمولی خطرے کو بھی قبول نہیں کریں گی۔ لہٰذا،

جب تک ایران خلل ڈالنے کا عزم رکھتا ہے، وہ کم سے کم طاقت کے ساتھ بھی عالمی تجارت اور توانائی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال سکتا ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں۔

خلاصہ یہ کہ

- ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھے گا،

- امریکہ کے پاس کوئی واضح فوجی یا سیاسی حکمت عملی نہیں ہے،

- اسرائیل اور امریکہ کی حکمت عملیاں بظاہر الگ الگ ہیں مگر ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں، اور

- ایرانی ڈرونز نے امریکی فضائیہ کو ایک نیا اور مہنگے چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔

- آنے والے سالوں میں امریکی فوج کو شدید فرسودگی کا سامنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از رضا حسینی

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha